Al-Risala · May 2015 · page 23

مغربی تہذیب ، مؤید تہذیب

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳

لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد فکری ارتقا کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔ یہی بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا حال ہوا۔ مثلا امت میں بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کا لقب دے دیا گیا، فقہائے اربعہ کو مجتہد مطلق کہا جانے لگا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں حسن البنا کو امام کا لقب دینا، شاہ ولی اللہ کو قائم الزمان قرار دینا، اقبال کو دانائے راز سمجھنا، وغیرہ۔ لقب دینے کا یہ طریقہ یقینی طور پر ایک بدعت تھا، اور حدیث کے مطابق بدعت سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس لقب کلچر کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت سے تخلیقی فکر (creative thinking) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس فکری حادثہ کا سب سے بڑا مظہر یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب اسلام کے لیے عظیم تائید (great support) بن کر ابھری تھی، مگر اپنی ذہنی جمود (intellectual stagnation) کی بنا پر مسلمان اس سے کامل طور پر بے خبر رہے۔ جس مغربی تہذیب کو محسن سمجھ کر اس کا استقبال کرنا تھا، اور اس کے پیدا کردہ مواقع (opportunities) کو اسلام کے حق میں استعمال کرنا تھا، اس کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے غیر ضروری طور پر لڑنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مزید تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوا۔ بیڑ (مہاراشٹر) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم فرمائیں: Altaf Book Depot Bashir Ganj, Dist. Beed- 431122 Maharashtra, India Mob. 09325052414, 09175588414 اسپرٹ آف اسلام (الرسالہ انگریش) اب نیوز سروس ایپ newshunt پر آچکا ہے ۔ یہ ایپ اینڈ رائڈ، بلیک بیری، ایپل، ونڈوز، وغیرہ اسمارٹ فون پر دستیاب ہے۔ قارئین مذکورہ app پر بک سیکشن میں اسے سبسکرائب کر سکتے ہیں:

http://ebooks.newshunt.com/Ebooks/english/Spirit-Of-Islam

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page