Al-Risala · May 2015 · page 26

جنت کی خصوصیت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶

جنت کی خصوصیت

جنت ئے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفس محمد بيده، لأحدهم أهدى بمنزله في الجنة منه بمنزله كان في الدنيا۔ (صحیح البخاری: 6535) یعنی اس ہستی کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، جنت کا ایک شخص جنت میں اپنے گھر کو اس سے زیادہ پہچانے گا، جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر کو پہچانتا تھا۔

دنیا میں ہر آدمی اپنا ایک مادی مسکن (physical abode) بناتا ہے، جس میں وہ موت سے قبل کے دورِ حیات میں رہتا ہے۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں ایک مومن اپنے اس گھر میں رہے گا، جو اس نے اپنے اسپرچول مسکن (spiritual abode) کے طور پر بنایا تھا۔ اصل یہ ہے کہ ایک سچا مومن دنیا کی زندگی میں ہر لمحہ ایک اسپرچول لائف (spiritual life) گزارتا ہے۔ حقیقتِ حیات کی معرفت، اپنے خالق سے محبت، خدا کی کتاب کا مطالعہ، رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں سے سبق لینا، تخلیق میں تدبر اور تفکر، دنیا کے معانی (world of meanings) میں ہر لمحہ اس کی دریافتیں۔ یہ سب چیزیں ایک مومن کی زندگی میں ہر لمحہ ایک اعلیٰ قسم کی ذہنی سرگرمی (intellectual activities) کے طور پر جاری رہتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے دوران ہر مومن اپنا ایک ربانی گھر یا اسپرچول مسکن (spiritual abode) بناتا ہے۔ یہ ربانی گھر دنیا کی زندگی میں ایک ناقابلِ مشاہدہ حقیقت کے طور پر موجود رہتا ہے۔ آخرت میں وہ ایک قابل مشاہدہ حقیقت کے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ آخرت میں بننے والی جنت میں ایک مومن اپنے اس تعمیر کردہ ربانی گھر میں رہے گا۔ دنیا میں وہ اس کو فکر کی سطح پر ایک ناقابلِ مشاہدہ واقعہ کے طور پر جانتا تھا، آخرت میں وہ اس کو مادی سطح پر ایک قابل مشاہدہ واقعہ کی حیثیت سے معلوم کر لے گا، اور فرشتوں کی رہنمائی میں وہ اپنے اس ابدی گھر میں داخل ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page