خبر، معرفت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
خبر، معرفت
اسلام میں تدبّر اور تفکر (contemplation) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ تدبر کو افضل عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تدبر سے یقین بڑھتا ہے۔ تدبر سے یہ ہوتا ہے کہ سنی یا پڑھی ہوئی بات خود در یافت کرده حقیقت (self-discovered reality) بن جاتی ہے۔
قرآن و حدیث میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، ان کی حیثیت گویا خبر کی ہے۔ یہ خبر مبنی بروحی ہے۔ اس خبر سے ہم کو صحیح نقطۂ آغاز (right starting point) ملتا ہے۔ پھر انسان اپنی عقل کو استعمال کر کے اس خبر میں اپنی طرف سے شعوری اضافہ کرتا ہے۔ وہ اس کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے۔ وہ اس کی تطبیقی معنویت (applied meaning) کو معلوم کرتا ہے۔ وہ خبر کو عقلی فریم ورک (rational framework) میں ڈھالتا ہے۔ اس طرح خبر اس کے لیے صرف خارجی نوعیت کی خبر نہیں رہتی، بلکہ وہ اس کے لیے داخلی اعتبار سے خود دریافت کردہ معرفت بن جاتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (48:4) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ایمان پر ایمان کا اضافہ۔ اس اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور رسول کی بات کو سن کر اس پر غور کرنا، جو چیز ابتدا ءَ ایک خبر تھی اس کو اپنے لیے خود دریافت کردہ سچائی بنا لینا ۔ آج کل کی زبان میں اس کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تدبر ، ایمان کو ایمان پلس بنا دیتا ہے۔
خبر کو معرفت بنانا اسلام میں عین مطلوب ہے۔ اسی سے تمام ایمانی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے آدمی کے اندر یقین آتا ہے۔ اس کے اندر صحیح تفکیر (right thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس سے انسان کو وہ خیر کثیر حاصل ہوتا ہے، جس کو قرآن میں حکمت (wisdom) کہا گیا ہے۔ اس سے آدمی اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو نور اللہ (اللہ کی روشنی) میں دیکھے، اور اپنے ایمان و اسلام کو کمال کے درجے میں پہنچادے۔ یہی وہ افراد ہیں جو آخرت میں جنت الفردوس کے مستحق قرار پائیں گے۔