لامحودام کائنات
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۸
لامحودام کائنات
قرآن کی سورہ ق میں اہلِ جنت کا ذکر ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے : لَهُمْ مَّا يَشَآءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ (50:35) یعنی وہاں ان کے لیے وہ سب ہوگا جو وہ چاہیں۔ اور ہمارے پاس مزید ہے۔
قرآن کی اس آیت میں مزید (more) کا لفظ آیا ہے۔ اس مزید کی کوئی حد نہیں۔ جس طرح اللہ رب العالمین کے کمالات کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح اس کے عنایات کی بھی کوئی حد نہیں ہوسکتی۔ مثلاً اگر کچھ لوگ اپنے عمل سے برتر استحقاق پیدا کریں تو ان کو انعام بھی یقیناً برتر سطح پر دیا جائے گا۔ قرآن میں اہل جنت کے چار گروہوں کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69) یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح ۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ قرآن کی اس آیت میں اہل جنت کے چار گروہوں کا ذکر ہے، لیکن مذکورہ آیت کے مطابق اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی چار گروہوں کے علاوہ ایک اس مادرِ مہربان کی گود میں، اس کے سینے میں، اس کی روح میں، اس کے پانچواں گروہ کا اضافہ۔ یہ پانچواں گروہ تخلیقی اہل ایمان کا گروہ ہو سکتا ہے: Paradise of creative believers یہ وہ خصوصی اہل ایمان ہیں وہ جو خود در یافت کردہ معرفت (self-discovered پر کھڑے ہوں، جو ذاتی منصوبہ (self-programming) کے تحت دعوت الی اللہ کا کام کریں، جو تخلیقی مواقع (self-created opportunities) کے مطابق خدا کے مشن کو انجام دیں، جو مقصد کے مقام پر نہ ٹھہریں، بلکہ السابقون کا درجہ حاصل کریں۔ یہ اس قابل ہوں گے کہ وہ آخرت میں جنت مزید کے مستحق قرار پائیں۔