Al-Risala · May 2015 · page 30

معرفت کی تکمیل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

معرفت کی تکمیل

قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحاً غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِیر اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے اے ہمارے رب، ہم کو نکال لے۔ ہم نیک عمل کریں گے، اس سے مختلف جو ہم کیا کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ لیتا۔ اور تمھارے پاس ڈرانے والا آیا۔ اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

انسان ایک طاقت ور مخلوق کی حیثیت سے پیدا ہوتا رہے، پھر دھیرے دھیرے وہ بوڑھا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں انسان کے اندر ہر قسم کی کمزوری آ جاتی ہے۔ انسان کو جوانی کی عمر میں جو قوت (energy) ملی ہوتی ہے، وہ بڑھاپے کی عمر میں اس سے چھن جاتی ہے۔ اس تجربے میں ایک عظیم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ اس تجربے کا مقصد یہ ہے کہ انسان یہ جانے کہ جوانی کی عمر میں میرے اندر جو طاقت تھی، وہ میری ذاتی ملکیت (personal property) نہیں تھی۔ بلکہ وہ ایک خدائی عطیہ (divine gift) تھی۔ اگر وہ میری ذاتی ملکیت ہوتی تو وہ ہمیشہ میرے ساتھ باقی رہتی۔ بلکہ کوئی دینے والا ہے، جس نے پہلے مجھ کو یہ نعمت دی تھی، اور اب اس نے یہ نعمت مجھ سے چھین لی۔ بڑھاپے کی عمر ایک تجربہ ہے۔ یہ تجربہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے بارے میں اس حقیقت کو دریافت کرے۔ اس حقیقت کی دریافت گویا معرفت کی تکمیل ہے۔ جو آدمی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر بھی اس حقیقت سے بے خبر ہے، اس سے زیادہ محروم انسان اور کوئی نہیں۔ بڑھاپے کا یہ تجربہ ہر بوڑھے انسان کے لیے مقدر ہے۔ البتہ جو انسان دعاؤں میں جیتا ہو، اس کے لیے بڑھاپے کی مشقت کو سہل بنا دیا جاتا ہے۔ تا کہ اس کے لیے بڑھاپے کا دور مصیبت کا دور نہ رہے، بلکہ وہ معرفت کا دور بن جائے۔ زندگی ایک تجربہ ہے، انسان کو چاہئے کہ وہ ہر تجربے سے مثبت سبق حاصل کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page