موت کا پیغام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱
موت کا پیغام
قرآن کی تین سورتوں میں یہ آیت آئی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتَ (3:185) ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے:
Every human being is bound to taste death
قرآن کا یہ بیان پوری انسانی تاریخ میں ایک واقعہ ثابت ہوا ہے۔ دولت، طاقت، سیاسی اقتدار، کوئی بھی چیز انسان کو موت سے بچانے والی نہ بن سکی۔ ہر پیدا ہونے والا انسان ایک مقرر مدت کے بعد لازمی طور پر مر جاتا ہے۔ موت سے بچنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اگر ایسا ہوتا کہ انسان اتفاقاً پیدا ہو اور اتفاقاً مر جائے تو کچھ لوگ مرتے، اور کچھ لوگ لمبی مدت تک زندہ رہتے۔ لیکن موت کے معاملے میں کسی فرد کا استثنا نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ موت کا معاملہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کی منصوبہ بندی (planning) کا معاملہ ہے۔ یہ خالق کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے، وہ بے سبب ہونے والا کوئی واقعہ نہیں۔
موت کا ایک تخلیقی منصوبہ ہونا، مزید یہ ثابت کرتا ہے کہ زندگی اور موت ایک با مقصد ظاہر ہ ہے۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زندگی اور موت کے پیچھے ایک تخلیقی مقصد ہے تو اس کے بعد لازم ہو جاتا ہے کہ انسان اس مقصد کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ اسی میں انسان کی کامیابی چھپی ہوئی ہے۔
موت کا واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تعمیر انسان کا نشانہ نہیں ہو سکتا۔ انسان کا نشانہ صرف وہ چیز ہو سکتی ہے جس میں زندگی اور موت دونوں کی توجیہہ موجود ہو، جس میں زندگی بھی با معنی نظر آئے اور موت بھی با معنی۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ، يَعْنِي الْمَوْت (ابن ماجه: حدیث نمبر 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو کہ لذات کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لذاتِ حیات کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بناؤ، بلکہ حقائق موت کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بناؤ۔