Al-Risala · May 2015 · page 33

مسلمان خیر امت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

مسلمان خیر امت

امت مسلمہ کو خیر امت کہا گیا ہے۔ یہ خیر باعتبار واقعہ نہیں ہے، بلکہ باعتبار امکان ہے۔ اقراری مومن ہونے کی بنا پر مسلمانوں کے اندر خیر کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔ اس امکان کو استعمال کر کے امت کو حقیقی معنوں میں خیر امت بنایا جا سکتا ہے۔

وہ امکان یہ ہے کہ داعی اور امت کے درمیان ایک متفقہ بنیاد (accepted common ground) موجود ہے۔ وہ یہ کہ امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے قرآن کو مستند کلام (authentic word) سمجھتی ہے۔ جو بات قرآن کے حوالے سے کہی جائے، امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے اپنے کو مجبور پائے گی کہ وہ اس کو بطور حقیقت تسلیم کرے اور اس کا اتباع کرے۔

مثال کے طور پر اگر آپ امت کے افراد سے یہ کہیں کہ تم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہو، اس کی پہلی آیت ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1)۔ اس آیت کو تم روزانہ بار بار اپنی نمازوں میں دہراتے ہو۔ اس کا تقاضا ہے کہ تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اگر تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرو اور اس کو صرف زبان سے دہراؤ تو قرآن کی تعلیمات کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ تم کو اللہ کی عدالت میں منافق قرار دیا جائے۔

قرآن کی آیت دراصل ایک حقیقت کا اعلان ہے۔ وہ یہ کہ اس عالم کے رب نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ آدمی ہر وقت اس پر شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سوچ کی اس طرح تربیت کرو کہ تمھاری زندگی کا ہر تجربہ اور تمھارے آس پاس کا ہر واقعہ تمھارے ذہن میں شکر کا آئٹم بن جائے۔ تم تھرلنگ (thrilling) شکر میں جینے والے بن جاؤ۔ حمد اسپرٹ میں جینا مسلم کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور غیر مسلم کی نسبت سے بھی۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ : جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ اللہ کا شکر نہیں کرے گا (من لم يشكر الناس، لم يشكر الله عز وجل) مسند احمد : 7504

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page