منافقانہ کلام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲
منافقانہ کلام
قرآن کی سورہ نساء میں یہودِ مدینہ کے حوالے سے ایک اسلوبِ کلام کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ (46:4)۔ قرآن کی اس آیت میں یہود کا لفظ قریبی حوالہ (ready reference) کے طور پر ہے۔ یہ دراصل ایک انسانی صفت ہے، نہ کہ صرف یہودِ مدینہ کی صفت۔
لِی لسان کا مطلب ہے توڑ مروڑ کر بولنا۔ عوامی زبان میں اس کو کہتے ہیں گھما پھرا کر بات کہنا۔ انگریزی زبان میں اس کو ٹوسٹ (twist) کر کے بولنا کہا جاتا ہے:
To speak by twisting the words
لِی لسان یا ٹوسٹ کر کے بولنے کا یہ معاملہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ تا کہ بظاہر بات بھی کہہ دی جائے لیکن اصل حقیقت چھپی رہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اخبار پر یہ الزام لگایا کہ اس نے حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا:
The newspaper was accused of twisting the facts.
لِی لسان کی یہ صفت دراصل کمزور شخصیت (weak personality) کی علامت ہے۔ جس کو مذہب کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ لِی لسان کی زبان میں کلام کرنے کا اسلوب کیوں پیدا ہوتا ہے۔ اس کا نفسیاتی سبب اپنے آپ کو درست سمجھنا (self-righteousness) ہے۔ یہ ایک عام انسانی مزاج ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا سمجھے، اور غلطی کا الزام دوسرے کے اوپر ڈالتا رہے۔ اسی مزاج کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بات کو اس طرح پیش کرتا ہے جس میں اس کی اپنی ذات صحیح نظر آئے، اور غلطی کی ذمے داری دوسروں کے اوپر چلی جائے۔ یہ اسلوبِ کلام پہلے شعوری طور پر آتا ہے، پھر دھیرے دھیرے وہ آدمی کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ پہلے جو بات اس نے سوچ کر کہی تھی، اب وہ عادت کے طور پر کہنے لگتا ہے۔ یہ عادت اتنی زیادہ عام ہو جاتی ہے کہ آدمی غیر ضروری طور پر بھی لِی لسان کے اسلوب میں بولنے لگتا ہے۔ یہ منافقت ہے، اور منافقت سے زیادہ بری کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔