شخصیت کا ارتقا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳
شخصیت کا ارتقا
قرآن کی ایک اصطلاح تزکیہ ہے۔ انسانی فلاح کا ذریعہ قرآن میں تزکیہ (9:10-91) کو بتایا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق جنت کی اعلیٰ دنیا میں صرف ان افراد کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ (20:76) کیا تھا۔
تزکیہ کا لفظی مطلب تطہیر (purification) ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک بامعنی مشین کی صورت اختیار کرتا ہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک مزکی شخصیت (purified soul) کی صورت اختیار کرتی ہے۔
یہ شدید مراحل کیا ہیں، یہ شدید مراحل وہ ہیں جب کہ انسان کو غیر مطلوب حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ غیر مطلوب حالات وہ مواقع ہیں، جن سے گزرتے ہوئے انسان اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔
جب انسان کی ایگو پر ضرب لگے اور وہ عدل پر قائم رہے، جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اپنے غصہ کو کنٹرول کرلے، جب انسان کو کوئی بڑائی ملے لیکن وہ متواضع (modest) بنارہے، جب انسان کے اندر انتقام کی آگ بھڑکے اور وہ اپنے اندر ہی اندر اس آگ کو بجھادے، جب انسان کے اندر کسی کے خلاف نفرت جاگ اٹھے اور وہ پھر بھی اس کے لیے اپنی خیر خواہی کو باقی رکھے، جب انسان پر کوئی دباؤ نہ ہو، اس کے باوجود وہ اعتراف (acknowledgement) کا ثبوت دے، وغیرہ۔ یہی وہ مواقع ہیں جو انسان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ یہ مواقع معتدل حالات میں پیدا نہیں ہوسکتے، یہ صرف غیر معمولی حالات (abnormal situation) میں پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن کے مطابق اس امتحان میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جس کے اندر صبر کی صفت پائی جائے (41:35)۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues