قرآن کو کتاب مہجور بنانا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴
قرآن کو کتاب مہجور بنانا
قرآن کی سورہ الفرقان کی ایک آیت یہ ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ یٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا ھٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (25:30) یعنی اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب بنا دیا۔
قیامت میں ہر پیغمبر اپنی امت کے بارے میں شہادت دے گا۔ مذکورہ آیت میں اُس شہادت کا ذکر ہے، جو پیغمبر اسلام اپنی امت کی بعد کی حالت کے بارے میں قیامت میں دیں گے۔ آپ قیامت میں بتائیں گے کہ میں نے اپنی امت کو قرآن پر قائم کیا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے میں میری امت نے قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب (discarded book) بنا دیا۔ ایسا اس لئے ہوگا تاکہ امت کے بگاڑ کا الزام پیغمبر پر نہ آئے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہ وہی بات ہے، جو ہر امت کے ساتھ پیش آئی، اور امت محمدی کے ساتھ بھی اس کے دورِ زوال میں پیش آئے گی۔ یہ قیامت کا ایک معاملہ ہے، اس کو پیشگی طور پر یہاں ذکر کیا گیا تا کہ لوگ متنبہ ہوں، اور اگر مجموعہ نہیں تو کم از کم افراد اس انجام سے اپنے کو بچا لیں۔ بعد کے زمانے میں امت محمدی کا عین یہی حال ہوا۔ رسول اللہ نے امت کے تین ادوار کو قرونِ مشہود لہا بالخیر کہا تھا، یعنی دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے امت کے اندر فقہ کا ڈیولپمنٹ ہوا۔ اب امت محمدی جس دین پر کھڑی ہوئی ہے، وہ عملًا قرآن کا دین نہیں ہے بلکہ فقہ کا دین ہے۔ امت نے قرآن کے دین کو چھوڑ کر فقہ کا دین اختیار کر لیا ہے۔ مثلاً قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اس میں عبادت خشوع اور تقویٰ کی چیز نظر آئے گی، یعنی روح (spirit) کی چیز۔ لیکن بعد کو وضع ہونے والی فقہ میں عبادت مکمل طور پر ایک مبنی بر فارم عمل (form based practice) بن گئی۔ قرآن کے مطابق ساری دنیا دار الانسان تھی، لیکن فقہ میں دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا—دارالکفر، دارالحرب۔ قرآن میں جہاد، جہاد بالقرآن (25:52) کا نام ہے، مگر فقہ نے جہاد کو جہاد بالسيف کے ہم معنی بنا دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues