Al-Risala · May 2015 · page 40

گھر کا ماحول

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۰

گھر کا ماحول

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے نہایت خوشی کے ساتھ بتایا کہ ان کا معمول ہے کہ وہ روزانہ صبح کو اپنے گھر والوں کو ایک جگہ بٹھاتے ہیں، اور کسی دینی کتاب کا ایک حصہ پڑھ کر ان کو سناتے ہیں۔ مجھے بہت سے لوگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اس طریقے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنا دینی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ انسان کے بارے میں کمتر اندازہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اس طرح کی رسمی باتوں سے اپنا ذہن نہیں بدلتا۔ لیکن اس طرح گھر والوں کو دینی کتاب پڑھ کر سنانا اصل ذمہ داری کا صرف نصف ثانی ہے۔ اصل ذمہ داری کی نسبت سے نصف اول یہ ہے کہ گھر کے اندر موافق دین ماحول بنایا جائے۔ اگر گھر کے اندر موافق ماحول نہ ہو تو اس طرح کتاب پڑھ کر سنانے سے مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہوگا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے گھر میں پوری طرح دنیا دارانہ ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے اندر دوسروں کے خلاف شکایت کی باتیں ہوتی ہیں۔ گھر کے اندر منفی خبروں کا چرچار ہتا ہے۔ گھر کے اندر انسانی خیر خواہی کی باتیں نہیں ہوتیں۔ بلکہ اپنے لوگوں کو اپنا، اور دوسرے لوگوں کو غیر سمجھنے کا ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے اندر جن باتوں کا چرچا ہوتا ہے، وہ ہیں ۔ کھانا کپڑا، روپیہ پیسہ، بزنس اور جاب، وغیرہ۔

گھر میں دینی کتاب پڑھ کر سنانا بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ لیکن اس کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے اندر اس کے موافق ماحول موجود ہو۔ کتاب پڑھنے سے پہلے، اور کتاب پڑھنے کے بعد گھر کے اندر وہی ماحول ہو جو کتاب میں بتایا گیا ہے۔ کسی گھر کو دین دار گھر بنانا اسی وقت ممکن ہے، جب کہ اس کو پوری سنجیدگی کے ساتھ انجام دیا جائے۔

گھر کا ماحول موافق دین بنائے بغیر گھر کے اندر دینی کتاب پڑھ کر سنانا گویا ہاتھی کے دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ اس طرح کے کسی عمل سے گھر کے سر پرستوں کی ذمے داری ادا نہیں ہوسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page