Al-Risala · May 2015 · page 42

توسیع، استحکام

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲

توسیع، استحکام

کسی مشن کے ہمیشہ دو تقاضے ہوتے ہیں ۔ ایک، اس کا استحکام (consolidation)، اور دوسرا، اس کی توسیع (expansion)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اسلامی مشن کا جو طریقہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ استحکام پر براہِ راست فوکس دیا جائے۔ مشن جب اپنی جگہ پر مستحکم ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر اس کی توسیع کا عمل (process) شروع ہو جاتا ہے۔ مشن کے استحکام کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرکزی مقام پر افراد پر عمل کر کے ایک ٹیم بنائی جائے۔ پھر اس ٹیم کے ذریعے مشن دوسرے علاقوں میں پھیلے۔ مشن اگر ایک مرکزی مقام پر مستحکم ہو جائے تو اس کے بعد مشن کی توسیع اپنے آپ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر توسیع پر زیادہ دھیان دیا جائے تو دونوں ہی کام مؤثر طور پر انجام نہ پائیں گے۔

استحکام کا کام ہمیشہ کسی مقام کو مرکزی حیثیت دے کر انجام پاتا ہے۔ جب کہ توسیع کے معاملے میں یہ ہوتا ہے کہ زیادہ بڑے رقبے میں پھیلاؤ کو اہمیت دی جانے لگتی ہے۔ استحکام کے نتیجے میں افراد بنتے ہیں، اور توسیع کے طریقے میں عمومی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ مشن میں دونوں چیزوں کی اہمیت ہے۔ لیکن مشن میں استحکام کو پہلی ترجیح حاصل ہے۔

مشن کا معاملہ درخت جیسا معاملہ ہے۔ درخت یہ کرتا ہے کہ پہلے وہ اپنے مقام پر اپنی جڑیں پھیلاتا ہے، جب اس کی جڑیں مقامی طور پر جم جاتی ہیں تو درخت مستحکم انداز میں بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ تو اس میں شاخیں اور پتیاں نکلتی ہیں، یہاں تک کہ وہ ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ مشن پہلے اپنے قریبی دائرے میں اپنی جڑیں مستحکم کرتا ہے۔ اس طرح مشن اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے قریبی مقام پر خود اپنی طاقت سے کھڑا ہو جائے۔ جب مشن کو اس طرح مرکزی استحکام حاصل ہو جائے تو اس کے بعد فطری قانون کے مطابق چاروں طرف اس کا پھیلاؤ شروع ہو جاتا، یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page