Al-Risala · May 2015 · page 43

امید کی دنیا

الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳

امید کی دنیا

برٹش سائنس داں نیوٹن کو جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن 1643 میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش سے تین مہینے پہلے اس کے باپ کا انتقال ہو چکا تھا۔ بعد کو اس کی ماں دوسری شادی کر کے اپنے نئے شوہر کے پاس چلی گئی۔ اس طرح نیوٹن بچپن ہی میں والدین کی محبت سے عملاً محروم ہو گیا ۔ نیوٹن کے ایک سوانح نگار نے اس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:

اپنے حالات کی بنا پر نیوٹن کے لیے اس کی خارجی دنیا اس کی دلچسپی کا مرکز نہ بن سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ذہن کی دنیا میں رہنے لگا۔ وہ بہت زیادہ سوچنے والا انسان بن گیا۔ وہ ہر وقت کائنات کی حقیقت کے بارے میں غور کرنے لگا۔

بچپن کے زمانے میں نیوٹن کی اس حالت کو دیکھ کر لوگ یہ کہنے لگے کہ نیوٹن ایک کھویا ہوا (woolgatherer) انسان ہے۔ بعد کو معلوم ہوا کہ نیوٹن کھویا ہوا انسان نہ تھا، بلکہ اس کے حالات نے اس کو ایک ہمہ وقت سوچنے والا انسان بنادیا تھا۔ اس طرح وہ اس قابل ہوگیا کہ وہ اپنے ذہنی امکان (intellectual potential) کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکے۔ وہ اپنے دائمی تدبر کی بنا پر کائنات کی ان حقیقتوں کو دریافت کرلے جو اس سے پہلے انسان کے لیے لامعلوم حقیقتیں بنی ہوئی تھیں۔ یہ نیوٹن کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ نیوٹن کے واقعے کی صورت میں فطرت کی کہانی ہے۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ انسان کے ساتھ جو تجربہ گزرتا ہے، خواہ بظاہر وہ ایک منفی تجربہ ہو لیکن اس کے اندر ہمیشہ ایک مثبت پہلو موجود ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کے ساتھ ہمیشہ ایک پلس پوائنٹ موجود ہو۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے اس پلس پوائنٹ کو دریافت کرے، اور اس کو استعمال کرکے وہ ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا امید کی دنیا ہے، نہ کہ ناامیدی کی دنیا۔ اس حقیقت کو جاننا بلا شبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی دانش مندی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2015 All issues

Printed page