Al-Risala · June 2015 · page 4

فطرت کا ایک قانون

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۴

فطرت کا ایک قانون

قرآن کی سورہ البقرۃ میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِيْنَ (2:249) یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ، اللہ کے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اذن کے لفظی معنی اجازت کے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ یہاں کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کے معنی میں ہے۔ فطرت کا یہ قانون کیا ہے۔ فطرت کا یہ قانون وہی ہے جس کو صبر کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہاں صبر کا مطلب یہ ہے کہ اگر اقلیتی گروہ منفی ردِ عمل میں مبتلا نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے سے بڑے گروہ پر سبقت لے جائے ۔ اصل یہ ہے کہ جب کوئی گروہ اقلیت (minority) میں ہوتا ہے تو اُس کو اکثریتی گروہ (majority) کی طرف سے مسلسل چیلنج کا سامنا پیش آتا ہے۔ یہ صورت حال، اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بنا دیتی ہے۔ اس طرح اُس کا شعور جاگتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ عمل کے نئے نئے میدان تلاش کرے۔ وہ اپنے ذرائع کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اور زیادہ تیار کر سکے۔ وہ اپنے عمل کی زیادہ دور رس منصوبہ بندی (planning) کرے۔ اس طرح اُس کا اقلیت میں ہونا اُس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ اکثریت سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ اور آخر کار اکثریت سے زیادہ ترقی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ نہیں، یہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر زمانے میں جاری رہتا ہے۔ دو قوموں کے درمیان بھی، اور ایک قوم کے اندر داخلی طور پر بھی، حتی کہ دو افراد کے درمیان بھی۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی صورت حال میں منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو۔ وہ ہمیشہ صرف ایک کام کرے۔ فطرت کے قانون کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا، یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ دوسرا ہر طریقہ صرف تباہی میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ کامیابی تک پہنچانے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page