Al-Risala · June 2015 · page 5

شیطان کا وسوسہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۵

شیطان کا وسوسہ

قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنائیں۔ اس کے فوراً بعد یہ الفاظ آئے ہیں : وَإِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغۡ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ إِنَّهُ هُو السُّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (41:36) یعنی اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو تم اللہ کی پناہ مانگو۔ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

اس سیاق (context) میں، وسوسہ شیطان کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ جب حسن سلوک کرنے کا معاملہ پیش آئے اور تمھارا دل کسی شک میں پڑے یا کوئی تم کو فرضی اندیشہ بتا کر اس راہ سے ہٹانا چاہے، اس وقت تم اس قسم کے خیال کو شیطان کا وسوسہ سمجھو اور شیطان کو اپنے سے دور بھگا کر اس معاملے میں اسلام کے اصول پر قائم رہو۔ اس سیاق کلام میں، وسوسہ شیطان کا مطلب ہے— دشمن کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے طریقے پر شبہہ ڈالنا۔

مثال کے طور پر اگر ایسا ہو کہ کسی کو یہ طریقہ بتایا جائے کہ تم جس کو اپنا دشمن سمجھتے ہو، اس کی دشمنی سے بچنے کا قرآنی طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس کے بعد اگر وہ شخص یہ کہے کہ ایسا کرنے سے دشمن اور زیادہ جری ہو جائے گا، وہ ہمارے خلاف اور بھی زیادہ دشمنی کرے گا تو ایسا کرنا یقینی طور پر شیطان کا وسوسہ ہے۔ ایسا بول عقل کا بول نہیں ہے، بلکہ شیطان کا بول ہے۔ جو لوگ ایسا کہیں وہ اس کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے ہیں۔ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا محض ایک اخلاقی بات نہیں۔ وہ فطرت کے قانون کے مطابق ایک کارگر تدبیر ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب اس کے ساتھ جوابی طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طور پر حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے، وہ ندامت میں مبتلا ہو کر اپنی اصلاح آپ کر لیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page