شہادت کے تصور میں تبدیلی
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
پہلے نفرت کی شکل میں جاری ہوا۔ اس کے بعد بتدریج اس نے تشدد کی صورت اختیار کرلی۔ اس متشددانہ عمل کو مقدس بنانے کے لیے کہا گیا کہ جو لوگ اس مقابلے میں مارے جائیں، وہ شہید ہوں گے، اور بلا حساب کتاب فورا جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ مسئلہ تھا، جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری قوموں کے خلاف اس منفی ردِ عمل کی آخری تباہ کن صورت وہ ہے جو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔ اس خود کش بمباری کو مقدس بنانے کے لیے کچھ علماء کی طرف سے غلط طور پر اس کو استشہاد (طلب شہادت) کا ٹائٹل دے دیا گیا۔
اب حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں شہادت کے نام پر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ لیکن شہادت کا اصل کام ، دعوت الی اللہ کو انجام دینے کی تڑپ کسی کے اندر نہیں، نہ مسلم علماء کے اندر، نہ مسلم عوام کے اندر۔ شہادت کے اس خود ساختہ تصور کے تحت وہ جن لوگوں پر حملے کرتے ہیں، وہ ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور مدعو کو ہلاک کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ سنتِ یہود کی پیروی حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدی بعد کے زمانے میں ضرور یہود کی کامل اتباع کرے گی: لتتبعُنَّ سَنَنَ من كان قبلکم، شبراً بشبر وذراعًا بذراع ، حتی لو دخلوا جُحْرَ ضَبِّ تبعتموهم. قلنا: يا رسولَ اللهِ، اليهودُ والنصاریٰ ؟ قال: فمنْ ( صحیح البخاری، ، حدیث نمبر 7320 ) ۔ یہ سادہ طور پر یہود کی اتباع کا مسئلہ نہیں ہے۔
یہ دراصل ایک قانونِ فطرت کا معاملہ ہے، جس کو قرآن میں طولِ امد کے نتیجے میں قساوت کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ (57:16) یعنی لمبی مدت گزرنے کی بنا پر بعد کی نسلوں میں زوال آنا، اور زوال کی بنا پر ان کے اندر مختلف قسم کے بگاڑ کا پیدا ہو جانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues