Al-Risala · June 2015 · page 22

شہادت کے تصور میں تبدیلی

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

سنت یہود کی پیروی کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو شہادت (witness) کے معاملے میں واقع ہوئی ۔ یہود کو اللہ نے اپنے دین کا گواہ (witness) بنایا تھا۔ اس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے : خداوند فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو، اور میرے خادم بھی جسے میں نے منتخب کیا تا کہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ، اور سمجھو کہ میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا (یسعاہ، 10:43)

You are My witnesses, declares the Lord, and My servant whom I have chosen, so that you may know and believe Me and understand that I am He. Before Me no god was formed, nor will there be one after Me. (Isaiah 43:10)

یہود پر بعد کے زمانے میں جب زوال آیا تو انھوں نے خدا کے دین کی گواہی کی اس ذمے داری کو عملاً چھوڑ دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ان کے اندر قومی ذہن پیدا ہو گیا۔ ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہو گئی جس کو یہود کی تاریخ میں یہودی احساس برتری (Jewish supremacism) کہا جاتا ہے۔

چناں چہ ان کی دلچسپی تمام تر اپنی قوم تک محدود ہو گئی ، وہ دوسرے انسانوں کے خیر خواہ نہ رہے۔ بلکہ دوسروں کو عمومی طور پر انھوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا ۔ کیوں کہ وہ قوم یہود کی خود ساختہ برتری کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے دین خداوندی کی گواہی کے کام کو چھوڑ دیا ، اور اس کے بجائے دوسرے قومی کاموں میں مشغول ہو گئے۔ مگر اسی کے ساتھ خود پسندی (self-righteousness) کے جذبہ کی بنا پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ اب بھی اپنے پیغمبر موسیٰ کے بتائے ہوئے دین پر قائم ہیں۔

یہود کے اس معاملے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page