خود کش حملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۴
کے مسلمان بظاہر اپنی سرگرمیوں کو " نظامِ مصطفیٰ " کا نام دیتے ہیں۔ لیکن وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا نظامِ مصطفیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ طریقہ عین اسی طریقے کی اتباع ہے جس کو قرآن میں زوال یافتہ یہود کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یعنی يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (3:188)۔ قرآن کے یہ الفاظ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر پوری طرح صادق آرہے ہیں۔ وہ اپنی قومی سرگرمیوں پر دعوت اور شہادت کا ٹائٹل لینا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ کے قانون کے مطابق ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ اس قسم کی روش بلاشبہ قابل مواخذہ ہے نہ کہ قابل انعام۔
خود کش حملہ
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ان کی زوال یافتہ قومی نفسیات کے تحت ایک ایسا ظاہر ہ پیدا ہوا ہے جو غالباً تحلیل حرام (يسمونها بغير اسمها فيستحلونها: سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145) کی سنگین ترین صورت ہے، اور وہ ہے خودکش بمباری (suicide bombing)۔ یعنی مفروضہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے آپ کو بم سے اڑا دینا۔
یہ طریقہ بلاشبہ نص شرعی کے مطابق ایک حرام فعل ہے۔ کچھ علماء نے بطور خود، خودکش بمباری کے اس فعل کو استشہاد ( طلب شہادت ) کہہ کر جائز قرار دیا ہے۔ مگر اس قسم کا استدلال گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی خود ساختہ فتویٰ خودکش بمباری جیسے صراحتاً نا جائز فعل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔
ایک حدیث اس معاملے میں قطعی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے، مثلاً صحیح البخاری ( حدیث نمبر 3062) ، صحیح مسلم ( حدیث نمبر 112) ، مسند امام احمد ( حدیث نمبر 8090) ، وغیرہ ۔ ان مختلف روایتوں کے الفاظ تقریباً یکساں ہیں۔ روایت کے مطابق، صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues