خود کش حملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۵
ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو ایمان لا چکا تھا۔ اس کا نام قزمان تھا۔ جنگ ہوئی تو یہ شخص شدید طور پر لڑا۔ لوگ اس کی بہادری کی تعریف کرنے لگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کہا کہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہے (إنّه من أهل النار)۔ لوگوں کو آپ کے اس قول پر یقین نہیں ہوا۔ آپ نے کہا کہ جا کر اس کی تحقیق کرو۔ جب لوگوں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جنگ میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا تھا۔ پھر زخموں کی تاب نہ لا کر اس نے اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے ہلاک کرلیا( فقَتل نفسه)۔ اس کے بعد آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں خودکشی مطلق حرام کی حیثیت رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ کوئی شخص بظاہر پیغمبر کا ساتھی ہو، اور وہ غزوہ میں لڑ کر بہادری دکھائے لیکن آخر میں وہ اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے مار کر اپنا خاتمہ کرلے تب بھی اس خودکشی کی بنا پر اس کی موت، حرام موت قرار پائے گی۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اگر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے، اور وہ لڑتے ہوئے مارے جائیں تو یہ جائز ہے۔ لیکن قصداً اپنے جسم کے ساتھ بم باندھنا، اور مفروضہ دشمنوں کے درمیان جا کر بم کا دھماکا کر دینا، جس میں وہ آدمی خود بھی مرے، اور دوسرے بھی مارے جائیں۔ یہ طریقہ صراحتاً خودکشی کا طریقہ ہے، اور وہ یقینی طور پر اسلام میں ناجائز ہے۔ اہل ایمان کے لیے حملے کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں تو اس کے بعد ان کے لیے کرنے کا جو کام ہے، وہ صبر ہے، نہ کہ خودکش حملہ۔ مگر اس معاملے میں موجودہ مسلمانوں کا آبسیشن (obsession) اتنا بڑھا ہوا ہے کہ کوئی اس پر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ بے فائدہ جنگ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا، حتى يأتي على الناس يوم لا يدري القاتل فيم قَتَل، ولا المقتول فيم قُتِل۔ فقيل : كيف يكون ذلك ؟ قال:
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues