Al-Risala · June 2015 · page 26

خود کش حملہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶

الهرج، القاتل والمقتول في النار (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2908)۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، جب کہ قاتل یہ نہیں جانے گا کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہیں جانے گا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔ کہا گیا کہ ایسا کیوں کر ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا ہرج (بے معنی قتل و قتال) کے زمانے میں ہوگا۔ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ ہرج کا مطلب شارحین حدیث نے بتایا ہے : شدة القتل و كثرته (عمدة القاري، جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 58)۔ یعنی قتل و قتال کی شدت اور کثرت۔ اس قسم کے مجنونانہ قتل و قتال کی صورت کسی گروہ میں کب پیش آتی ہے ۔ جب وہ گروہ قوم پرستی میں دوسروں کے خلاف اندھی دشمنی تک پہنچ جائے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کے اندر آخری حد تک یہ ذہن پیدا ہو گیا ہے کہ انھوں نے قومی حمایت میں دوسروں کو اپنا ابدی دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتی ہیں۔ اس خود ساختہ سوچ کی بنا پر دوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جنون کی حد تک نفرت اور تشدد کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر تشدد (violence) کا جو انتہا پسندانہ ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ وہ نہ صرف دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے ہیں، بلکہ خود ان مسلمانوں کے خلاف بھی، جن کے بارے میں وہ یہ فرض کر لیں کہ وہ ان کے دشمنوں کے حامی ہیں۔

موجودہ زمانے میں یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مختلف ٹیررسٹ (terrorist) گروپ بن گئے ہیں۔ وہ مختلف مقامات پر قتل و قتال کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں، حتی کہ اسکول کے بچوں، مسجد کے نمازیوں، اور قبرستان کے سوگوار افراد پر بھی قتل و قتال کا یہ ان جسٹیفائڈ (unjustified) ہنگامہ اتنا زیادہ ہے، جیسے کہ ان لوگوں نے قتال برائے قتال کو خود ایک مطلوب کام سمجھ لیا ہے۔ خواہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی معقول سبب (justified reason) موجود نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page