تاریخ کا قانون
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
تاریخ کا قانون
انسانی تاریخ کے بارے میں خداوند عالم کا ایک قانون ہے۔ اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو مقابل قوم کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
اس آیت میں اس صورت حال کا ذکر ہے کہ فتح و شکست یا غلبہ اور مغلوبیت کے معاملہ کے حالات کبھی یکساں نہیں ہوتے۔ کبھی ایک قوم کو غلبہ ملتا ہے اور کبھی دوسری قوم کو۔ یہ اتفاقی بات نہیں ہے۔ یہ خالق کے انتظام کا معاملہ ہے۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، خالق انسانی تاریخ کا اس طرح نظم کر رہا ہے:
Managing history while maintaining human freedom
اصل یہ ہے کہ دوسری چیزوں کی طرح غلبہ بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ چنانچہ کبھی ایک گروہ کو غلبہ دے کر اس کا امتحان لیا جاتا ہے، اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ غلبہ کے معاملہ میں کسی ایک گروہ کی اجاره داری (monopoly) نہیں ہوسکتی۔
اگر کسی ایک گروہ کو مستقل طور پر غلبہ دے دیا جائے تو اس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہو جائے گا۔ اس طرح انسانی زندگی میں ترقی کا عمل (process of development) رک جائے گا۔ اس لیے خود خالق کی طرف سے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جو قیادت کو بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اس کو قبول کرے۔ وہ غلبہ کو بھی امتحان سمجھے اور مغلوبیت کو بھی امتحان۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues