قرآن کی حفاظت
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۳۶
میں عربی بولتے تھے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام جب پورے عرب میں پھیل گیا تو ہر ایک کا قرآن باعتبار متن ایک ہی قرآن تھا، لیکن قرآن کو پڑھنے کا لہجہ سب کا ایک نہ تھا۔ اس وقت لوگوں کی سہولت کے لیے یہ کہا گیا کہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باعتبار نزول قرآن کے سات لہجے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اپنے لہجے کے اعتبار سے قرآن کے پڑھنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، یہ ایک عملی بات تھی نہ کہ کوئی نظری بات۔
قرآن کے متن (text) کی حفاظت کے لیے صحابہ نے آخری انتہائی طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے حکم سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو کاغذ پر لکھ کر اس کا مصحف تیار کیا جس کو ربعہ کہا جاتا تھا۔ یہ کام انھوں نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کے اصول پر کیا، یعنی لکھے ہوئے کو حفظ سے چیک کرنا، اور حفظ کو لکھے ہوئے سے چیک کرنا۔ اس طرح جو کاغذی نسخہ (ربعہ) تیار ہوا اس کو خلیفہ اول کے حکم سے رسول اللہ کی زوجہ حفصہ کے گھر پر رکھ دیا گیا۔
ایک مصحف (ربعہ) کی صورت میں لکھے جانے سے پہلے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزا مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے موجود تھے۔ مستند مصحف تیار ہونے کے بعد خلیفہ اول کے حکم سے اور تمام صحابہ کی رائے سے یہ کیا گیا کہ ان تمام مختلف اجزا کو جلا دیا گیا۔ حرق مصحف کا یہی واقعہ دوسری بار خلیفہ ثالث حضرت عثمان کے زمانہ میں پیش آیا۔ اس مدت میں لوگوں نے بطور خود جزئی یا کلی طور پر مصاحف لکھ لیے تھے۔
ان مصاحف میں ان کے قبائل کی قرأت کا اسلوب شامل ہو گیا تھا۔ حضرت عثمان نے یہ کیا کہ زید بن ثابت انصاری کی قیادت میں صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی۔ پھر انھوں نے حضرت حفصہ کے پاس جو مصحف صدیقی محفوظ تھا اس کو منگوایا، اور صحابہ سے کہا کہ اس کی نقلیں تیار کرو۔ اس طرح مصحف صدیقی کی سات نقلیں تیار کی گئیں۔ پھر خلیفہ کے حکم سے ان نقلوں کو مدینہ اور دوسرے شہروں کی مسجدوں میں رکھوا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت عثمان نے مزید اہتمام یہ کیا کہ لوگوں نے بطور خود قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues