Al-Risala · June 2015 · page 47

حقیقت پسندانہ سوچ

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۴۷

حقیقت پسندانہ سوچ

دنیا میں جو برائیاں (evils) ہیں ان سب کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں میں اَیز اِٹ از تھنکنگ (as it is thinking) نہ ہونا۔ غصہ، نفرت، انتقام، عدم برداشت، تشدد وغیرہ سب کی اصل جڑ یہی ہے۔ ایز اٹ از تھنکنگ کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ۔ غور کیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جس کو شیطان کا کلچر (satanic culture) کہا گیا ہے۔ شیطان یا ابلیس جنوں کا سردار تھا۔ پیدائش آدم کے وقت اس نے یہ اعتراض اٹھایا کہ خدا نے انسان کو خلیفۃ الارض بنا دیا اور جنات کو کچھ نہیں دیا۔ یہ انتخابی طرزِ فکر کی پہلی مثال تھی۔ جن کو جو اختیارات دیے گئے تھے اس کے لحاظ سے گو یا وہ خلیفۃ الکون تھا۔ مگر ابلیس نے یہ کیا کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا تھا، اس کا اعتراف نہیں کیا، اور جو کچھ انسان کو دیا گیا تھا اسی کا ذکر یک طرفہ طور پر کیا۔ اسی یک طرفہ طرز فکر سے ساری برائیاں پیدا ہوئیں۔ ابلیس کا یہی کلچر آج تک ساری دنیا میں جاری ہے۔ سارے انسانوں کی مشترک برائی بتانا ہو تو وہ صرف ایک ہوگی۔ اور وہ انتخابی سوچ (selective thinking) ہے۔ ہر عورت اور مرد یہ کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے ڈھنگ سے۔ اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچتے ہیں، اور دوسرے کو دوسرے معیار سے۔ اپنی پسند کو لوگوں کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کی صرف اچھائیاں بیان کریں گے، اور اگر ان لوگوں کا ذکر کرنا ہو جو انھیں پسند نہیں ہیں تو ان کی صرف برائیاں بیان کریں گے۔ ایک قوم کے بارے میں وہ منفی رپورٹنگ (negative reporting) کریں گے، اور دوسری قوم کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ (positive reporting)۔ ایک گروہ ان کو ظالم نظر آئے گا اور دوسرا گروہ مظلوم دکھائی دے گا۔ ایک کے لئے ان کے دل میں صرف نفرت ہوگی، اور دوسرے کے لئے صرف محبت - یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) سے محروم کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page