Al-Risala · January 2015 · page 29

قرآن کی زبان

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

قرآن کی زبان

قرآن کی 29 سورتوں میں کچھ حروف آئے ہیں، جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ قطَّعَ کے معنی ہیں: ٹکڑے ٹکڑے کرنا (to cut, to separate, to divide)۔ یہ حروف مقطعات دراصل عربی زبان کے حروف تہجی (alphabets) ہیں۔

حروف مقطعات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میں ہے نہ کہ ملأ اعلیٰ کی زبان میں۔ وہ علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ قرآن اپنی زبان کے اعتبار سے ایک انسانی زبان (26:195) میں اتارا گیا ہے۔ قرآن پر اسی طرح تدبر کرو، جس طرح تم کسی انسانی زبان کے کلام میں تدبر کرتے ہو۔ مگر تفسیر بالرائے کے انتہا پسندانہ تصور کی بنا پر لوگوں نے قرآنی آیات پر کھلا تدبر نہیں کیا۔ اس بنا پر وہ قرآن کے عمیق معانی تک نہ پہنچ سکے۔ انھوں نے قرآن کی زبان کو پر اسرار سمجھ لیا۔ اس ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن ان کے لیے ایک مقدس کتاب برکت بن کر رہ گیا۔ صحیح یہ ہے کہ قرآن میں کھلا تدبر کیا جائے۔ البتہ یہ تدبر لازمی طور پر متقیانہ تدبر ہونا چاہئے۔

مثال کے طور پر سورہ النحل کی پانچ آیتوں ،4 تا 8، کو لیجئے، ان آیتوں میں پہلے انسان کی تخلیق کا ذکر ہے، اس کے بعد اگلی آیتوں میں کچھ قدرتی سواریوں کا ذکر ہے۔ آخر میں غیر معلوم تخلیق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان آیتوں کو صرف مقدس آیات کے طور پر لیں تو آپ پر ان کے گہرے معانی نہیں کھلیں گے۔ اس کے برعکس، اگر آپ اس کو انسانی زبان کا ایک کلام سمجھ کر تدبر کریں تو آپ پر ایسے معانی کھلیں گے، جو آپ کے لیے تعلق باللہ کا اعلیٰ تجربہ بن جائیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کی تین رحمتوں کا ذکر ہے۔ پہلے اللہ کی اس رحمت کا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا، اُس کے بعد چند علامتی مثالوں کے ذریعہ اللہ کی اس رحمت کا کہ اس نے انسان کے لیے اس دنیا میں مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) رکھ دیا، آخر میں يخلق ما لا تعلمون کے الفاظ میں اللہ کی اُؔس رحمت کی طرف اشارہ ہے، جس کو صنعتی تہذیب (industrial civilization) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page