اعلیٰ انسان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰
اعلیٰ انسان
قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا اُولُوا الْأَلْبَابِ (البقرة: 269) یعنی وہ جس کو چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بڑی دولت مل گئی۔ اور نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق انسان کے لیے سب سے بڑی چیز حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت کے بغیر انسان ایک حیوان کی مانند ہے۔ یہ حکمت ہی ہے جو انسان کو حیوان سے برتر درجہ عطا کرتی ہے۔
حکمت کے ذریعہ انسان، ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے۔ حکمت کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ فیس ویلو (face value) سے آگے جا کر چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔ انسان کی تمام ترقیوں کا راز منصوبہ بندی (planning) میں ہے، اور درست منصوبہ بندی حکمت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
کسی انسان کی زندگی میں پہلے ذہنی ارتقا (intellectual development) آتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے، جس کو حکمت (wisdom) کہا جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں، چیزوں کو ویسے ہی دیکھے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں (اللھم ارنا الأشياء كماهي)۔
حکمت آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتی ہے جس کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر (realistic approach) کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ایک متواضع انسان (modest man) بن جاتا ہے۔ اس کے اندر صبر (patience) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ تشدد کے مقابلہ میں امن (peace) کی اہمیت کو شعوری طور پر جان لیتا ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اعلیٰ انسان بناتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues