قرآنِ کتابِ تدبّر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۶
قرآنِ کتابِ تدبّر
قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّرُوَا اٰيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبّر کے ساتھ کرے۔ صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ مزید یہ کہ تدبّر کے لیے تیار ذہن (prepared mind) درکار ہے۔ جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے۔ اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طور پر سمجھ سکے گا۔ اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ (2:282) ہے۔ متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے۔ سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ عقل، فواد، لب، قلب، حجر، نہی۔ ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طور پر عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سمع اور بصر وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں، کچھ آیتیں براہ راست طور پر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طور پر۔
مثلاً اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (13:19) اور اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُولِي النُّهَىٰ (20:54) جیسی آیتوں میں براہ راست طور پر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو۔ عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے۔
جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے۔ مثلاً قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues