Al-Risala · July 2015 · page 7

قرآنِ کتابِ تدبّر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۷

کی پہلی آیت یہ ہے: ﭐالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:1)۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے۔ اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کر سکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو۔ اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)۔ یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے۔ وسوسہ کو چھو کر یا دیکھ کر نہیں جانا جا سکتا، وسوسہ کے شر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کر کے وسوسہ کو دریافت کرے۔ اس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے۔

یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے۔ مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)۔ غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غور و فکر کے ذریعہ ممکن ہے۔ اسی طرح، مثلاً قرآن میں حج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (2:197)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طور پر آپس میں اختلافات (differences) پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے۔ آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے۔

اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدہ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُّبِينًا (48:1)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریق ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق۔ آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page