جنت کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۱
جنت کیا ہے
قرآن کی سورہ فصلت میں جنت کی صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِی أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَدَّعُونَ (41:31) یعنی فرشتے اہل جنت سے کہیں گے: اور تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھا را دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہر اعتبار سے ایک کامل جگہ ہوگی۔ جنت میں کمی یا نقص کا کوئی پہلو موجود نہ ہوگا۔
قرآن کی اس آیت میں اہل جنت کی نسبت سے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ایک اشتہا اور دوسرا طلب۔ اشتہا کا لفظ عمومی انسانی خواہش کو بتاتا ہے، یعنی عمومی معنوں میں لوگ جن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، وہ سب وہاں موجود ہوں گی۔
طلب کے لفظ میں انفرادی ذوق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی جنت میں وہ تمام چیزیں بھی ہوں گی، جو عمومی طور پر لوگوں کی پسند کی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جنت میں ہر فرد کے ذاتی ذوق کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہوگا۔
قرآن کے اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے افراد تخلیقی ذہن (creative mind) رکھنے والے لوگ ہوں گے۔ عمومی پسند کے علاوہ ان میں سے ہر فرد کی اپنی ذاتی پسند بھی ہوگی۔ جنت میں اجتماعی پسند کا سامان بھی ہوگا، اور انفرادی پسند کا سامان بھی۔ جنت کی یہ صفت، جنت کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
گویا کہ جنت کا معاشرہ یکساں قسم کے درختوں کی مانند نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ متنوع قسم کے درختوں کے ایک باغ کی مانند ہوگا۔ جنت میں یکسانیت (uniformity) کے ساتھ تنوع (diversity) بھی ہوگا۔ جنت کی یہ صفت جنت کو بہت زیادہ خوبصورت اور بہت زیادہ با معنی بنا دے گی۔ جنت لذتوں کا مقام بھی ہوگا، اور تنوعات کا مقام بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues