Al-Risala · July 2015 · page 12

قرآن کا مطالعہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲

قرآن کا مطالعہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من قرأ حرفاً من كتاب اللہ فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، الف حرف ولام حرف وميم حرف (الترمذي، حدیث نمبر: 2910) یعنی جس شخص نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا تو اس کے لیے اس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی دس گنا تک بڑھتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔

یہ قول رسول ایک لمبی روایت میں بھی آیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ إن هذا القرآن مأدبة الله تعالى فتعلموا من مأدبة الله ما استطعتم (مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 11660) یعنی یہ قرآن ایک ربانی دسترخوان (banquet) ہے، پس تم اس دسترخوان سے سیکھو، جتنا تم سیکھ سکتے ہو۔ اس حدیث میں جو بات الفاظ کے اعتبار سے کہی گئی ہے، وہ دراصل معنی کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں معانی کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسلوب انسان کی زبان میں عام ہے، یعنی کیفیاتی حقیقت (qualitative fact) کو کمیاتی زبان (quantitative language) میں بیان کیا گیا ہے۔

مذکورہ حدیث کی یہ شرح قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: كِتٰبٌ أَنْزَلْنٰهُ إِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّرُوْا اَيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔

قرآن کی یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ قرآن غور وفکر کی کتاب ہے۔ قرآن کا مدعا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کے الفاظ کو تلاوت کے طور پر دہرائیں، اور پر اسرار طور پر اس کا ثواب ان کو ملتا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تدبر کے بغیر قرآن کا مقصد نزول پورا نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page