آل عمران ، رکوع آخر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵
قربانی کے بغیر ہو، وہ ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ایمان نہیں ہے۔ چوں کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کے ساتھ یہ چاروں قسم کے تجربات پیش آئے۔ مگر بعد کے اہل ایمان کے لیے زمانے کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ ان چاروں چیزوں کی اصل حقیقت قربانی کی سطح پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔ بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے بھی یہ شرط موجود رہے گی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
آیات 198-196۔ اس کے بعد انسانوں کے لیے دو مختلف قسم کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو لوگ خدا سے سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ اختیار کریں وہ آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔
آیت 199۔ اس آیت میں اہل ایمان کی اس صفت کا ذکر ہے کہ وہ تعصب سے کامل طور پر خالی ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ وہ ہر رسول پر یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔ کوئی دنیوی مصلحت ان کو سچائی کے راستے سے ہٹانے والی نہیں۔ آیت 200۔ اس آیت میں صبر واستقامت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایمان کے راستے پر چلنے کے بعد ایسے مواقع بار بار آتے ہیں، جو آدمی کو متزلزل کرسکتے ہیں اور اس کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکر کو پھر سے بیدار کرے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے اپنے آپ کو یقین پر قائم رکھے۔ اس طرح اس کے اندر صبر واستقامت آئے گی۔ وہ دوسرے اہل ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ بندھار ہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے گی تو وہ اس کو اپنی ذہنی بیداری کے ذریعے اپنے لیے غیر مؤثر بنادے گا۔
آخر میں فرمایا اتقوا الله لعلكم تفلحون۔ یہ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔ مذکورہ تمام افعال صرف اس وقت مطلوب صورت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، جب کہ ان کے پیچھے تقوی کی اسپرٹ موجود ہو۔ یہ صرف تقوی ہے جو کسی انسان کی حقیقی فلاح کا ضامن ہے۔ تقوی کے بغیر فلاح کا حصول ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues