Al-Risala · July 2015 · page 16

موت کا ذکر کثیر

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶

موت کا ذکر کثیر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اکثروا ذکر هادم اللذات، يعني الموت (ابن ماجه، حديث نمبر: 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ھادینے والی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندر دنیارخی سوچ کو منہدم کردیتی ہے اور اُس کے اندر آخرت رخی سوچ پیدا کردیتی ہے۔ اگر آدمی بار بار موت کو یاد کرے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا پسند انسان کے بجائے آخرت پسند انسان بن جائے گا۔

اس حدیث میں لذت کا لفظ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو مرکز توجہ بناتی ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اس حقیقت کو بہت زیادہ یاد کرے کہ وہ اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ سوسال سے بھی کم مدت میں مر جائے گا تو اُس کا مرکز توجہ بدل جائے گا۔ وہ اُس دنیا کو زیادہ سے زیادہ اہم سمجھے گا جو موت کے بعد آنے والی ہے، نہ کہ اُس دنیا کو جس میں موت سے پہلے عارضی طور پر زندگی گزار رہا ہے۔

یہ طرز فکر آدمی کے اندر ایک انقلاب پیدا کردے گا۔ اُس کی سوچ بدل جائے گی ، اْس کا سلوک بدل جائے گا، اْس کے لین دین کا طریقہ بدل جائے گا، اُس کی اخلاقی روش بدل جائے گی، اُس کے روز وشب بدل جائیں گے۔ یہی مطلب ہے لذتوں کو ڈ ڈھانے کا۔

حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندازِ فکر کو پوری طرح بدل دیتی ہے۔ جس چیز کو آج کل " یہیں اور ابھی" (right here, right now) کہا جاتا ہے، وہ صرف اْس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ انسان موت سے غافل ہو۔ اگر اُس کو موت کی حقیقت کا زندہ شعور ہو جائے تو وہ کبھی اس قسم کا فارمولا نہ اپنائے۔ موت کے ہادم اللذات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ موت آدمی کی زندگی کے رخ کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page