ایک انقلابی اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸
ایک انقلابی اصول
قرآن میں کلمہ سوا (3:64) کا اصول بتایا گیا ہے۔ کلمہ سوا کا مطلب ہے اپنے اور مخاطب کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) تلاش کر کے اپنی بات کہنا تا کہ مخاطب کسی اجنبیت کے بغیر آپ کی بات سن سکے۔ کلمہ سوا کا یہ اصول کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔
موجودہ زمانے میں کلمہ سوا کے اصول کا انطباقی امکان (applicable scopes) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کا خاص سبب موجودہ زمانے میں اوپن نیس کا مزاج (spirit of openness) ہے۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ لائبریری کلچر کو استعمال کر کے ہر جگہ اپنے لٹریچر کو مطالعے کی میز پر پہنچا دیں، بک فیر کے رواج کو استعمال کر کے اپنی مطبوعات کو ہر شہر اور ہر ٹاؤن میں پہنچا دیں، سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کر کے ہر طبقے کے لوگوں تک اپنی پہنچ بڑھا دیں، سیاحت کلچر کو استعمال کر کے اپنی بات کو عالمی دائرے میں پھیلا دیں، تعلیمی اداروں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو اپنے مقصد کے مطابق تربیت دیں، بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی کے نیٹ ورک کو اپنے خیالات کی اشاعت کا ذریعہ بنالیں، وغیرہ۔
مگر ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اور جدید ذہن کے درمیان کلمہ سوا کو دریافت کریں، اور پھر دانش مندانہ انداز میں اس کو استعمال کریں۔ جدید ذہن کی خاص صفت بے تعصبی ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک طبقاتی سوچ (sectarian thinking) شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ذہن کے مطابق موضوعی فکر (objective thinking) کی حیثیت معیاری فکر کی ہے۔ جدید ذہن امن پسند ذہن ہے، وہ نفرت اور تشدد کو ہر حال میں برا سمجھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues