دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹
دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے
کہا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کے یہاں ایک مرغا تھا جو اپنی عادت کے مطابق صبح کو بانگ دیتا تھا۔ بوڑھی عورت یہ سمجھتی تھی کہ گاؤں میں اس کے مرغ کی بانگ سے صبح ہوتی ہے۔ ایک بار وہ گاؤں والوں سے کسی بات پر غصہ ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے اپنے مرغ کو لیا اور یہ کہتی ہوئی گاؤں سے نکل گئی کہ اب دیکھیں یہاں کیسے صبح ہوتی ہے۔ بظاہر یہ ایک کہانی ہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانوں کے عام مزاج کے مطابق ہے۔ یہ مزاج اتنا عام ہے کہ شاید کسی بھی شخص کا اس میں استثنا (exception) نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے، آپ کے چچا ابو طالب آپ پر ایمان نہیں لائے مگر خاندانی تعلق کی بنا پر وہ آپ کا ساتھ دیتے تھے۔ آخر عمر میں کہا جانے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر قریش کے سردار ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور ان کو عار دلایا کہ کیا آپ اپنے باپ عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے۔ اس طرح انھوں نے ابو طالب کو رسول اللہ پر ایمان لانے سے روک دیا۔ قریش کے سردار اپنے اس کارنامے کے بعد جب ابو طالب کے گھر سے واپس ہوئے تو ان کی نفسیات یہ تھی اب دیکھیں محمد کا مشن کیسے جاری رہتا ہے۔ مگر تاریخ جانتی ہے کہ قریش کے سرداروں کا خیال کتنا زیادہ بے بنیاد ثابت ہوا۔
اس طرح کے واقعات تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں اور اب بھی پیش آرہے ہیں۔ مگر اس قسم کے نادان لوگوں نے تاریخ کے تجربات سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کوئی مشن اپنی داخلی طاقت (inner strength) کے زور پر چلتا ہے نہ کہ کسی انسان کے ساتھ دینے یا ساتھ نہ دینے پر۔ اس دنیا کو بنانے والے نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نہ کسی کی موافقت سے کسی کا کام بنتا ہے، اور نہ کسی کی مخالفت سے کوئی کام بگڑتا ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ خالق کے مقرر منصوبے کے مطابق ہوتا ہے۔ موافقت یا مخالفت دونوں صرف ظاہری اسباب ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues