Al-Risala · January 2015 · page 31

غیب پر یقین

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱

غیب پر یقین

قرآن کی سورہ نمبر 2 کی شروع کی آیات یہ ہیں: ذَلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ؀ۙ فِيْهِ ؀ۙ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ ؀ۙ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرة: 3-2) یعنی یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے، جو ایمان لاتے ہیں غیب پر۔ قرآن کی اس آیت میں ایمان بالغیب کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہہ آدمی اپنی زبان سے آمنتُ بالغیب کہ دے، بلکہ یہ ہے کہ آدمی غیب کے بارے میں عقلی طور پر (rationally) اُسی طرح یقین کر سکے جس طرح وہ شہود پر یقین کرتا ہے۔

غیب پر ایمان لانا ایک اعلیٰ ذہنی ارتقا(high level of intellectual development) کا معاملہ ہے۔ ایک انسان اپنی فطری طاقتوں کو استعمال کرتا ہے، وہ اپنے بارے میں اور کائنات کے بارے میں مسلسل طور پر غور وفکر کرتا ہے، وہ کتاب وسنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے، وہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے مسلسل طور پر گہرا سبق لیتا رہتا ہے، وہ خدا کی نشانیوں (آیات) پر غور کر کے تخلیق کے گہرے رموز تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے ذہنی ارتقا کی بنا پر وہ نہ دکھائی دینے والی چیزوں پر بھی اسی طرح یقین کر سکے، جس طرح کوئی شخص دکھائی دینے والی چیزوں پر یقین کرتا ہے۔

غیب (unseen) پر ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیب پر ایمان نہیں ہے، بلکہ وہ یہ ہے کہ آدمی کی تفگیری صلاحیت اتنی زیادہ بلند ہو جائے کہ اس کے لیے غیب اور شہود میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔ وہ غیبی حقیقتوں کو اتنی گہرائی کے ساتھ دریافت کر لے کہ اپنے شعور کے اعتبار سے اس کے لیے ان حقیقتوں کو نہ ماننا بالکل غیر ممکن ہو جائے ۔ ایمان بالغیب دراصل غیب کو ماننے کا نام نہیں بلکہ وہ شعور کا وہ ارتقائی درجہ ہے، جہاں باعتبار حقیقت اس کے لیے ایمان بالغیب اور ایمان بالشہود میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page