اجتہاد یا فتویٰ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
اجتہاد یا فتویٰ
امام ابوحنیفہ (وفات 150 ھ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا، میں نے قسم کھائی ہے کہ میں اپنی بیوی سے کلام نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھ سے کلام کرے، اور میری بیوی نے قسم کھارکھی ہے کہ وہ مجھ سے بات نہ کرے گی، یہاں تک کہ میں اس سے بات کروں۔ امام صاحب نے جواب دیا تم دونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں۔
سفیان ثوری (وفات: 161 ھ) نے جب یہ جواب سنا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا اور امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہا آپ نے یہ جواب کیسے دے دیا۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ مرد کے قسم کھانے کے بعد جب عورت نے مرد سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم سے بات نہ کروں گی جب تک کہ تم مجھ سے بات نہ کرو تو مرد کی قسم تمام ہوگئی، اور مرد اس سے بات کرے گا تو حانث نہ ہوگا، اور مرد جب اس سے بات کر لے گا تو عورت کی قسم تمام ہو جائے گی، پھر عورت بھی حانث نہ ہوگی۔
امام ابوحنیفہ (اور دوسرے ائمہ فقہ) کی اس قسم کی باتوں کو اجتہاد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جزئی مسائل میں فتوی دینے کا واقعہ ہے۔ اجتہاد زیادہ بڑے بڑے شرعی امور میں دین کا موقف بتانے کا نام ہے، نہ کہ جزئی نوعیت کے مسائل میں فقہی مسئلہ بتانے کا نام۔ اس قسم کے جزئی امور پر فتوی دینے والوں کو مجتہد بلکہ مجتہد مطلق سمجھ لیا گیا۔ یہ بلاشبہ اجتہاد کا کمتر اندازہ (underestimation) تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے امت سے حقیقی اجتہاد کا خاتمہ کر دیا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ بعد کے زمانے میں اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ اجتہاد کے غلط تصور کی بنا پر اجتہاد کا ذہن ختم ہو گیا، اسی کوتاہی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے بڑے مسائل پیش آئے جو اجتہاد کا تقاضا کرتے تھے لیکن علماء اس سے عاجز ثابت ہوئے کہ وہ ان امور میں اجتہاد کر کے امت کو صحیح رہنمائی دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues