مس مصحف کے لیے وضو کی شرط
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰
مس مصحف کے لیے وضو کی شرط
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن ایک مقدس کتاب ہے۔ اس کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔ وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں۔ قرآن کو چھونے یا اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وضو کر کے اپنے آپ کو پاک کر چکا ہو۔ لیکن یہ شرط بعد کے زمانے کی پیداوار ہے۔ دور اول میں یا قرآن اور حدیث میں نصاً اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، وہ اپنے نقطہ نظر کی تائید میں، قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: لاَ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ (56:79) یعنی قرآن کو نہیں چھوتے، مگر وہ لوگ جو کہ مطہر ہیں۔ قرآن کی اس آیت کا تعلق مذکورہ مسئلے سے نہیں ہے۔ اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ مصحف کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ قرآن کی اس آیت میں مطہر یا پاکیزه (purified) سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی اس میں اس واقعے کا ذکر ہے، جس کا تعلق فرشتوں سے ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس مس کا ذکر ہے اس سے مراد مس مادی نہیں ہے، بلکہ مس معنوی ہے۔
اس آیت کا سیاق بتاتا ہے کہ یہاں اُن فرشتوں کا ذکر ہے، جو قرآن کی وحی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتے تھے، اور آپ کو قرآن پہنچاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے جس قرآن کی تنزیل کا ذریعہ بنتے تھے، وہ قرآن باعتبار معنی ہوتا تھا نہ کہ قرآن باعتبار مصحف۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونے کی بحث کی بنا پر آیت کا اصل مقصود اوجھل ہو گیا ہے۔ اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک عظیم کلام ہے۔ وہ ایک ایسی کتاب ہے جو اعلیٰ معانی پر مشتمل ہے، وہ رب العالمین کے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر آخرالزماں پر اتارا گیا ہے۔ انسان اگر اس کے معانی کی عظمت پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہو جائے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے نہ کہ کسی انسان کا کلام۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues