Al-Risala · July 2015 · page 26

شیطان سے حفاظت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۶

شیطان سے حفاظت

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: یا عمر فو اللہ، إن لقيك الشيطان بفج قط، إلا أخذ فجاجير فجك (مسند احمد، حدیث نمبر: 1624) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر، خدا کی قسم، جب بھی شیطان تم سے کسی راستہ میں ملتا ہے، تو وہ تمھارے راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار (mysterious) بات نہیں ہے، اور نہ وہ ایک شخص کی فضیلت کے معنی میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی بات ہے، جس کو شعوری ایمان حاصل ہو۔ یہ وہی ایمانی تجربہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ (7:201) یعنی جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے، تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں، اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق شیطان سے بچنے کا اصل راز تذکر ہے۔ تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا (to remember)۔ مگر یہ یاد، سادہ طور پر صرف یاد کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اتنا زیادہ با شعور ہو کہ جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ (analysis) کرکے، اس کو بے اثر بنادے۔ حضرت عمر اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر یہی کام کرتے تھے۔ دوسرے وہ تمام اہل ایمان بھی یہی کام کریں گے، جن کے اندر ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں تجزیہ کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہو۔ مثلاً اس نوعیت کا ایک واقعہ یہ ہے۔ حضرت عمر خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ میں اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص (عیینہ بن حصن) آیا۔ اس نے کہا: یا ابن الخطاب، فو الله ما تعطینا الجزل ولا تحکم بیننا بالعدل۔ یعنی اے ابن خطاب، تم ہم کو نہ کچھ دیتے ہو، اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔ یہ سن کر حضرت عمر کو غصہ آگیا۔ انھوں نے اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page