Al-Risala · July 2015 · page 27

شیطان سے حفاظت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷

قصد کیا (تاکہ اس کو سزا دے)۔ اس وقت حر بن قیس نے کہا، اے امیر المومنین، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ نادان سے اعراض کرو (7:199) اور یہ بلاشبہ ایک نادان شخص ہے۔ یہ سن کر عمر رک گئے، اور انھوں نے عیینہ کے خلاف کچھ نہیں کیا (صحیح البخاری: 4642)

حضرت عمر قرآن کی مذکورہ آیت سن کر کیوں رک گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے ذہن نے معاملہ پر از سر نو غور کیا۔ پہلے وہ عیینہ کو ایک غلط انسان سمجھ کر، اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ اب انھوں نے از سر نو غور کیا، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ ایک نادان آدمی ہے، اور اس قابل ہے کہ اس سے اعراض کا معاملہ کیا جائے۔

اس طرح کے معاملات دوسرے صحابہ اور تابعین کے بارے میں بھی کثرت سے کتابوں میں موجود ہیں۔ مثلاً ابوذر اور بلال دونوں صحابی تھے۔ ابوذر کو کسی بات پر بلال پر غصہ آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا، یا ابن السوداء (اے سیاہ فام ماں کے بیٹے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: یا اباذر، إنك امرء فيك جاهلية (اے ابوذر، تمھارے اندر ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تمھارے بھائی (اخوان) ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوذر کے اندر ندامت پیدا ہوئی۔ ان کو محسوس ہوا کہ میں اس معاملہ کو سیاہ فام اور سفید فام کا معاملہ سمجھتا تھا۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کا معاملہ ہے۔ اور انسان کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ پہلے اگر شیطان نے ان پر حملہ کیا تھا تو اب تذکر کے نتیجہ میں وہ شیطان کے اثر سے باہر آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی، وہ عمر کی فضیلت کے طور پر نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک شخص کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہے۔ ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی کا ایمانی شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب بھی شیطان اس کے دل میں کوئی برا خیال ڈالے، تو وہ فورا اس کا تجزیہ کر کے اپنے آپ کو اس کے اثر سے بچالے۔ مذکورہ حدیث میں راستہ بدلنے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ شیطان کی نسبت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page