Al-Risala · July 2015 · page 29

دو چہرے والا شخص

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

دو چہرے والا شخص

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن شر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه، وهؤلاء بوجه (صحیح البخاري، حدیث نمبر: 7179) یعنی لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جو دو چہرے والا ہو، وہ کچھ لوگوں سے ایک چہرہ کے ساتھ ملے اور کچھ سے دوسرے چہرے کے ساتھ۔

یہ وہی کردار ہے، جس کو دو ہرا معیار (double standard) کہا جاتا ہے۔ کوئی انسان ایسا رویہ کیوں اختیار کرتا ہے۔ اس کا سبب مفاد پرستی ہے۔ ایسے شخص کا اصل کنسرن (concern) یہ ہوتا ہے کہ اس کا مادی مفاد مجروح نہ ہونے پائے۔ وہ ہر ایک سے فائدہ حاصل کر سکے۔ اس مقصد کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار کرتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کرے کہ ہر ایک اُس کو اچھا سمجھے۔ کسی سے اُس کا بگاڑ نہ ہونے پائے۔ یہی مزاج اُس آدمی کو دو ہرا معیار والا شخص بنا دیتا ہے۔ اس قسم کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد اُس کو یہ وقتی فائدہ تو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نظر میں اچھا انسان بن جاتا ہے، لیکن اس طریقہ کا شدید تر نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی اصول نہیں ہوتا۔ اُس کے اندر وہ برائی پیدا ہو جاتی ہے، جس کو بے اصولی کی روش (unprincipled behaviour) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے، جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہا گیا ہے۔

منافقانہ روش کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔ خالق نے اس کی فطرت میں جو ارتقائی امکانات رکھے ہیں، وہ سب کے سب بند پڑے رہتے ہیں، وہ اپنا ظہور نہیں پاتے۔ یہاں تک کہ ایسا انسان دھیرے دھیرے حیوان بشکل انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ بظاہر خوبصورت الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ اعلیٰ کیریکٹر سے یکسر محروم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page