تیار ذہن کی اہمیت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۲۸
تیار ذہن کی اہمیت
کہا جاتا ہے کہ سائنس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ زیادہ تر اتفاقات کا نتیجہ ہیں۔ ریسرچ کے دوران کوئی اتفاقی واقعہ پیش آتا ہے، اس سے ایک سائنس داں کا ذہن ایک امکان کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور پھر اس پر مزید کام کر کے سائنس داں ایک حقیقت تک پہنچتا ہے: The role of chance in science, or luck in science, describes the ways that unexpected discoveries are made. Somewhere between 30% and 50% of all scientific discoveries are in some sense accidental. Louis Pasteur said: "Luck favours the prepared mind". یہ بات جس طرح سائنس کے لیے درست ہے، اُسی طرح وہ دوسری دریافتوں کے لیے بھی درست ہے۔ مذہب میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے کہ ایک آدمی ، جب اپنے آپ کو مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ تیار کرتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ کسی بات کے ظاہری معنی کے ساتھ اُس کے اندر چھپی ہوئی حکمت کو بھی جان لے۔ اس معاملہ کو قرآن میں تو سم کہا گیا ہے۔ ایسا آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ معمولی باتوں سے غیر معمولی نتیجہ اخذ کر سکے۔
اصل اہمیت یہ ہے کہ انسان مطالعہ اور مشاہدہ اور غوروفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے۔ وہ اپنے اندر اخذ و استنباط کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنی تفکیری صلاحیت کو مسلسل ترقی دیتا رہے۔ جو انسان ایسا کرے، وہ ایک تیار ذہن ہے۔ ایسے انسان کا دماغ ، مقناطیس کی مانند ہو جائے گا۔ جب بھی کوئی ذرہ معرفت اُس کے سامنے آئے گا، وہ فوراً اُس کو اخذ کر لے گا۔ یہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں عارف انسان کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے ایک تیار ذہن بنا رکھا ہو۔ جب ایسا ہوگا تو وہ معلوم کے درمیان نامعلوم کو جان لے گا، وہ ظاہر کے درمیان مخفی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues