فرشتوں کی نگرانی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱
فرشتوں کی نگرانی
خراسان کے مشہور عالم حدیث ابو القاسم ابراہیم النصر آبادی (وفات: 369ھ) نے حج کا قصد کیا تو ان کے شاگرد ابو عبد الرحمن السلمی (وفات: 412) نے بھی ان کے ساتھ سفرِ حج پر جانے کا ارادہ کیا، اس وقت ان کی ماں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: توجّهتَ إلى بيت الله، فلا يكتبن عليك حافظاك شيئاً، تستحي منه غدا (سير أعلام النبلاء: 17/249) یعنی تم نے بیت اللہ جانے کا قصد کیا ہے تو ہرگز ایسا نہ ہو کہ تمھارے دونوں محافظ فرشتے تمھارے بارے میں کوئی ایسی بات لکھیں، جس پر تم کو کل شرمندہ ہونا پڑے۔
حج کی عبادت کے دوران آدمی بہت سے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران طرح طرح کے موافق و غیر موافق معاملات پیش آتے ہیں۔ اس لئے اس کا امکان رہتا ہے کہ حاجی سے اس طرح کی اخلاقی برائیاں سرزد ہوں جس کو قرآن میں فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الحَجِّ (البقرۃ: 199) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسے موقع پر برائی سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جو کچھ بولے، یا جو معاملہ کرے، وہ یہ سوچ کر کرے کہ بظاہر اگر چہ جو کچھ وہ کر رہا ہے، انسان کے ساتھ کر رہا ہے، لیکن آخر کار اس کا سارا معاملہ اللہ کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ یہ سوچ آدمی کے اندر شدید قسم کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے گی۔ یہ معاملہ صرف سفر حج کا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، روز مرہ کی زندگی میں آدمی روزانہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس اجتماعی زندگی کے دوران کبھی وہ کچھ بولتا ہے، کبھی وہ کسی سے کچھ معاملہ کرتا ہے، اس دوران اس کو چاہئے کہ بظاہر اگروہ انسان سے معاملہ کر رہا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اس کے پورے قول و عمل کا ریکارڈ فرشتے تیار کر رہے ہیں، اور یہ ریکارڈ آخر کار اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے، جو آدمی اس سوچ کے ساتھ دنیا میں رہے اس کی پوری زندگی درست زندگی بن جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues