توسط اور اعتدال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲
توسط اور اعتدال
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیر الأمور أوساطہا (شعب الإيمان للبيهقي، حدیث نمبر (5819) یعنی معاملات میں سب سے اچھا طریقہ، بیچ کا طریقہ ہے۔ اس حدیث میں امور سے مراد عملی معاملات ہیں، نہ کہ نظریاتی معاملات ۔ جہاں تک نظریہ کی بات ہے، اس میں ہمیشہ تو حد مطلوب ہوتا ہے، اور عملی معاملات میں تعدد کا طریقہ درست ہے۔
نظریہ کا تعلق آدمی کے یقین سے ہوتا ہے۔ نظریہ کے معاملہ میں ضروری ہے کہ آدمی اس کو یقین کے ساتھ اختیار کرے، اور یقین ہمیشہ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب کہ آدمی کسی ایک بات کو واحد طور پر درست بات مانے۔ اگر آدمی کئی باتوں کو یکساں طور پر درست سمجھے، تو اس سے آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی، جب کہ سچائی کے ساتھ یقین ضروری ہے۔ لیکن عملی معاملات کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں اگر تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے ٹکراؤ پیدا ہوگا۔ اس لئے اجتماعی معاملات میں درست بات یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے، کوئی ایسا درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں ٹکراؤ کے بغیر کام کیا جا سکتا ہو۔ جہاں تک عبادت کے طریقے میں اختلاف کا معاملہ ہے، ان میں بھی تعدد کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ کیونکہ اصحاب رسول کے یہاں طریقہ عبادت میں فرق پایا جاتا تھا۔ اس فرق یا اختلاف کے معاملہ میں فقہاء نے ترجیح کا اصول اختیار کر کے، ایک طریقہ متعین کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ درست نہیں۔
اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ عبادت کے طریقوں میں صحابہ کے اختلاف کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے اور صحابہ سے ثابت شدہ ہر طریقہ کو یکساں طور پر درست مانا جائے ۔ ہر ایک کو یہ اختیار ہو کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی چاہے پیروی کرے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم (مشکاۃ المصابيح، حدیث نمبر (6018)۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues