Al-Risala · July 2015 · page 33

راستہ بدلنا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

راستہ بدلنا

سیرت رسول کی کتابوں میں ایک واقعہ آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں۔ آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو۔ چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل يخرج بنا على طريق غير طريقهم التي هم بها (ابن هشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جوان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے۔ مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے۔

اسی طرح اگر کسی جگہ دو گروہ ہوں ، ان میں سے ایک گروہ سیاست کے راستے پر چل رہا ہو تو دوسرے گروہ کو چاہئے کہ وہ پرامن دعوت کے راستے پر چلے تا کہ دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ اسی طرح زندگی کے مختلف راستے ہیں، اور کام کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں تو دونوں میں سے وہ گروہ پیغمبر کے نمونے پر قائم ہے، جو اپنے طریقے میں ایسی تبدیلی کرے، جس سے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا امکان ختم ہوجائے۔ یہ راستہ بدلنے کی سنت ہے۔ یہ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ سے بچنے کا فطری طریقہ ہے۔ اس سنت رسول کی حکمت یہ ہے کہ مقصد کی طرف سفر میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو، اور کسی تاخیر کے بغیر اصل مقصد کی طرف سفر بدستور جاری رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page