Al-Risala · July 2015 · page 38

Ignore the problems, avail the opportunities

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۸

موقع پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی، حنین کے موقعے پر آپ نے قبیلہ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے کبھی اس سنتِ رسول پر عمل نہیں کیا۔ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ گو یا بعد کے زمانے میں ہر بار انھوں نے اختیار ایسر (easier option) کے بجائے اختیار اعسر (harder option) کے طریقے پر عمل کیا۔

مثلاً موجودہ زمانے میں نو آبادیات (colonialism) کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہاں پر دوبارہ یہ امکان تھا کہ مسلم علماء اور مسلم رہنما ٹکراؤ کے بجائے پُر امن دعوت کے طریقے پر عمل کریں، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح صهیونیت (Zionism) کا مسئلہ پیدا، اور 1948 میں فلسطین کے نصف حصے پر اسرائیل کی حکومت قائم ہو گئی۔ یہاں بھی مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے پُر امن دعوت کا کام کریں۔ مگر تمام مسلم رہنما خواہ وہ عرب ہوں یا نان عرب، سب نے متفقہ طور پر اسرائیل کے معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملے میں وہ اس انتہا تک پہنچ گئے کہ خود کش بمباری (suicide bombing) کو جائز ٹھہرادیا، وغیرہ۔

اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب وہی ہے جس کو مختلف حدیثوں میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ بعد کے زمانے میں انحراف کا شکار ہو جائے گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145) ہو جائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔

بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہر ہ اسی صورت حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میں امت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ حالات کے زیر اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امت مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا سیاسی غلبہ زمین پر قائم کریں۔ وہ ہر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues

Printed page