Ignore the problems, avail the opportunities
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۳۹
جگہ دوسری قوموں کو مغلوب کر کے اپنے آپ کو سیاسی طور پر غالب کریں۔ اس عمل کو انھوں نے اجتہادی خطا کے طور پر خلافت یا اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ حالاں کہ یہ مشن تمام تر ایک قومی مشن تھا۔ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ امت مسلمہ کا مستقل مشن قرآن کے مطابق شہادت علی الناس (143:2) ہے۔ اس مشن میں ساری اہمیت پر امن جدوجہد کی تھی۔ اس مشن کا جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس مشن کا تقاضا تھا کہ اہل ایمان مسائل کو نظر انداز کریں اور پر امن طور پر دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیں۔
مگر جب ایسا ہوا کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مسلم رہنماؤں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنا لیا تو اس کے فطری تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ وہ قوموں سے جنگ و قتال کے عمل میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے جہاد کی خود ساختہ تشریح کر کے اپنے متشددانہ طریقہ کار کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا۔ حالاں کہ جہاد قر آن میں پر امن جدو جہد کا نام (25:52) ہے نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا۔ مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں کے اندر اگر پیغمبرانہ مزاج ہوتا، اور وہ غیر متاثر ذہن کے تحت قرآن وسنت کا مطالعہ کرتے تو وہ یقینا جان لیتے کہ پیغمبر اسلام کا مستقل مشن صرف ایک تھا، اور وہ پر امن دعوت الی اللہ۔ پر امن دعوت آپ کی زندگی کا حقیقی حصہ (real part) تھا، اور آپ کی زندگی میں چند بار جو جنگ و قتال کا مرحلہ پیش آیا وہ آپ کی زندگی کا اضافی حصہ (relative part) تھا۔
روزہ
روزے کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے رک جائے، وہ غلط کام نہ کرے، غلط گفتگو سے پر ہیز کرے، غلط زندگی میں نہ پڑے، حتیٰ کہ اگر حکم ہو تو کھانا پینا بھی چھوڑ دے۔
یہی روزہ ہے جس کا ہر سال رمضان میں سبق دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues