Al-Risala · January 2015 · page 33

زوجین کا اصول

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۳

زوجین کا اصول

قرآن کی سورہ الذاریات میں تخلیق کے اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49) یعنی اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز، خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی، اس کا ایک زوج (pair) موجود ہے۔ جیسے مادی ذرات میں پازیٹو پارٹیکل کے ساتھ نیگیٹو پارٹیکل، نباتات میں میل پلانٹ (male plant) کے ساتھ فیمیل پلانٹ (female plant)، حیوانات میں ہی اینمل (he animal) کے ساتھ شی اینمل (she animal) موجود ہیں۔ اسی طرح انسان کی دنیا میں بھی عورت کے ساتھ مرد پیدا کیے گیے ہیں۔

مگر انسان کا معاملہ دوسری مخلوقات سے مختلف ہے۔ انسان کے لیے زوجین کی پیدائش کافی نہیں۔ انسان اس کے سوا بھی ایک اور چیز کا طالب ہے۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے زوجین کے سوا ایک اور چیز چاہتا ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں انسان کا فطری ہیبی ٹیٹ (habitat) کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کے لیے اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں۔ انسان ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا چاہتا ہے، مگر موجودہ دنیا کسی بھی اعتبار سے کامل دنیا نہیں۔

اس دنیا میں انسان کے سوا جو چیزیں ہیں، ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اور دنیا کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ مختلف ہے، انسان اور دنیا کے درمیان مطابقت موجود نہیں۔ یہ عدم مطابقت پوری کائنات میں ایک استثنائی واقعہ ہے۔ انسانی زندگی کا یہ استثنائی پہلو تقاضا کرتا ہے کہ انسان کو اس کی مطلوب دنیا حاصل ہو۔ اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے جو انسان کے لیے اس کے مطلوب مسکن کی حیثیت رکھتی ہے۔ جنت کا امکان اپنے آپ میں جنت کے وجود کا ثبوت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page