امتِ وسط
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۳۴
امتِ وسط
قرآن کی ایک آیت میں امت محمدی کی ذمہ داری کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (2:143) یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔
قرآن کی اس آیت میں امت محمدی کی نیابتی حیثیت کو بتایا گیا ہے۔ ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے۔ اس کی حیثیت امت وسط، بیچ کی امت (middle ummah) کی ہے، یعنی قرآن وسنت کی صورت میں اس کو جو دین پیغمبر اسلام سے ملا ہے، اس کو وہ قیامت تک تمام انسانوں تک پہنچاتی رہے۔
یہ درمیانی رول امت محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے۔ اسی رول کی ادائیگی پر امت محمدی کا امت محمدی ہونا متحقق ہوتا ہے۔ اگر امت محمدی اپنا یہ رول ادا نہ کرے تو اس کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ یہی دعوتی رول امت محمدی کا اصل منصبی فریضہ ہے۔ کوئی دوسرا کام، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیا گیا ہو، وہ اس رول کا بدل نہیں سکتا۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس رول کے تقاضے کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے۔ مثلاً ہمیشہ مدعو کا خیر خواہ بنے رہنا، مدعو کے ساتھ حریفانہ کش مکش سے کامل طور پر پرہیز کرنا، قرآن وسنت کے پیغام کو اس طرح پیش کرنا جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، مدعو سے کسی حال میں اجر کا طالب نہ ہونا، مدعو کے ساتھ کسی بھی قسم کی مطالباتی مہم کو کامل طور پر ترک کر دینا، اپنے اور مدعو کے درمیان ہر قیمت پر امن کا ماحول قائم رکھنا، وغیرہ۔ اسی دعوتی ذمہ داری کی ادائیگی پر امت محمدی کے مستقبل کا انحصار ہے۔ اسی پر دنیا میں بھی ان کے لیے کامیابی ہے اور اسی پر آخرت میں بھی ان کے لیے کامیابی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues