مزاحمت سے مقابلہ تک
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۲
مزاحمت سے مقابلہ تک
انگریز شاعر لارڈ بائرن (وفات: 1824) ایک آزاد پسند شاعر تھا۔ اس نے غالباً پہلی بار منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے بعد یہ اصطلاح کافی مقبول ہوئی۔ خود مسلم تحریکوں نے بھی، اس اصطلاح کو ایک پسندیدہ اصطلاح سمجھ کر اختیار کر لیا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جگہ منفعل مزاحمت آخر کار متشددانہ مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔
اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب انسان کا غیر مطمئن مزاج (non-stable nature) ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ ایک چیز کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے لیے کوشش شروع کرے تو وہ اپنے نشانہ کو پانے سے پہلے کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ خواہ اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو تباہ کرلے۔ موجودہ زمانے کی مختلف جماعتوں نے سیاسی انقلاب کو اپنا نشانہ بنایا۔ ابتداء انھوں نے کہا کہ ہم اپنی تحریک کو پر امن انداز میں چلائیں گے۔ پھر جب پر امن طریقہ کار سے نشانہ حاصل نہیں ہوا تو انھوں نے منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح وضع کی، اور اس کے مطابق کام شروع کیا۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہو رہا ہے، تو انھوں نے فعال مزاحمت (active resistance) کا طریقہ اختیار کیا۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہو رہا ہے تو انھوں نے متشددانہ عمل (violent activism) کا طریقہ اختیار کیا۔ پھر جب اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہوا تو وہ انتہا پسندی کی آخری حد تک پہنچ گئے اور مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری (suicide bombing) کرنے لگے، تاکہ اگر وہ دشمن کو مغلوب نہ کر سکیں تو کم از کم اس کو غیر مستحکم (de-stabilise) کردیں۔
کسی تحریک کا نشانہ صرف وہ ہو سکتا ہے جو مثبت نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ منفی تباہ کاری تک۔ کسی تحریک یا اس کے طریقہ کار پر رائے قائم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ اس معاملے میں کسی اور چیز کو معیار قرار دینا درست نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues