علم کی حد
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۳
علم کی حد
فلسفرائٹس لائے ہو، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ علم بالکل ناکافی ہے اور ۴۱ یاد رہے کہ مہاتما جی کا فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے۔ اس حد سے آگے انسان کے لیے جانا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے۔ مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا دریاں ہیں یہ ساری کہ مانڈے کی دھوبی گھاٹ پر ہے ہوں اس لیے میں ہوں :
I think therefore I exist.
مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا ۔ کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence) ہے نہ کہ موضوعی ثبوت (objective evidence)۔ داخلی ثبوت کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے، نہ کہ دو طرفہ ثبوت۔
سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا ۔ آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے ۔ لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability) ۔ اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)۔ علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے ۔ اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا بے حد خطر ناک ہے ۔ کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا ، نہ کہ یقین تک ۔ علم کا آخری مطلوب یقین ہے ۔ جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے ، وہ بلاشبہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص ہے اور دوسرے میں خامہ بہ لب یا عجز ی ہے ؛ پ اس کو علم کا درجہ دیتا ہو۔
ہے ہردوئی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2015 All issues