Al-Risala · August 2015 · page 10

نتیجہ ایک اشارہ ربانی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰

نتیجہ ایک اشارہ ربانی

عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من حسن إسلام المرء تركه مالايعنيه (ابن ماجه، حدیث نمبر : 3976)۔ یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

یہ حدیث رسول ہم کو ایک معیار (criterion) دیتی ہے۔ جس کی کی روشنی میں ہم اپنے عمل کو جانچتے رہیں۔ جو عمل عملاً نتیجہ خیز ثابت ہو، اس پر قائم رہیں، اور جو عمل بے نتیجہ ثابت ہو اس کو چھوڑ دیں۔ اس حدیث کا تعلق عبادت جیسے معاملات سے نہیں ہے۔ بلکہ ان امور سے ہے جو دنیا میں کسی نتیجے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ مثلاً دشمن سے قتال کا معاملہ اگر ہمارا کوئی دشمن پایا جائے اور ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے ساتھ قتال کرنا چاہیے ۔ تب بھی قتال برائے قتال کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ قتال برائے نتیجہ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے زیادہ مدت سے جہاد کے نام پر قتال کر رہے ہیں، وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف متشددانہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، لیکن جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اس عمل کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اب مذکورہ حدیث کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ تو بہ جمیع (24:31) پر عمل کریں، اور یک لخت اپنی تمام متشددانہ سرگرمیوں کو ختم کردیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کو نظر آئے گا کہ ان کے کرنے کا اصل کام پر امن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ سرگرمیاں۔ یہی اس وقت اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ تشدد خواہ جہاد کے نام سے کیا جائے، لیکن وہ تشدد ہے۔ اور عملی اعتبار سے اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کوئی مطلوب اسلامی عمل نہیں۔ اگر وہ مطلوب اسلامی عمل ہوتا تو اس پر ضرور اللہ کی نصرت نازل ہوتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (30:47)۔ یعنی اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page